مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته فترتفع حيضتها باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھراس کوحیض نہ آئے تو کیا حکم ہے؟
٢٠١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن نافع عن سليمان بن يسار أن الأحوص -رجلا من (أهل الشام) (١) - طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين فمات وهي في الحيضة الثالثة من الدم، فرفع ذلك إلى معاوية فسأل عنها فضالة ابن عبيد، ومن هناك من أصحاب النبي ﵇، فلم يوجد عندهم فيها (علم) (٢)، فبعث (بها) (٣) راكبا إلى زيد بن ثابت فقال: لا ترثه، وإن ماتت لم يرثها (٤).حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شام کے ایک آدمی جن کا احوص تھا انہوں نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، ابھی وہ عورت تیسرے حیض میں تھی کہ آدمی کا انتقال ہوگیا۔ یہ مقدمہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا تو انہوں نے اس بارے میں حضرت فضالہ بن عبید سے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م سے سوال کیا۔ لیکن کسی نے اس کا جواب نہ دیا۔ لہٰذا ایک سوار کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس اس بارے میں سوال کرنے کے لئے بھیجا گیا انہوں نے فرمایا کہ وہ وارث نہیں ہوگی اور اگر عورت مرجائے تو خاوند بھی وارث نہیں ہوگا اور انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی فرمایا کرتے تھے۔