مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته فترتفع حيضتها باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھراس کوحیض نہ آئے تو کیا حکم ہے؟
٢٠١١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو اسامة عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب قال: كتب إليّ الزهري أن رجلًا طلق امرأته وهي ترضع ابنًا له، فمكثت سبعة (أشهر) (١) (أو) (٢) ثمانية أشهر لا تحيض، فقيل له: إن مت ورثتك، فقال: ⦗٤٢٢⦘ احملوني إلى عثمان فحملوه، فأرسل عثمان إلى علي وزيد (فسألهما فقالا) (٣): لا نرى أن ترثه، فقال: ولم؟ فقالا: لأنها ليست من (اللائي) (٤) يئسن من المحيض، ولا (اللائي) (٥) لم يحضن وإنما يمنعها من (المحيض) (٦) الرضاع، فأخذ (الرجل) (٧) ابنه (منها) (٨) فلما فقدته حاضت حيضة ثم حاضت في الشهر الثاني حيضة أخرى ثم مات قبل أن تحيض الثالثة فورثته (٩).حضرت یزید بن ابی حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے میری طرف خط لکھا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، جبکہ وہ اس کے ایک بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ پھر وہ عورت سات مہینے یا آٹھ مہینے رکی رہی اسے حیض نہ آیا۔ آدمی سے کسی نے کہا کہ اگر تو مرگیا تو وہ تیری وارث ہوگی۔ اس نے کہا کہ مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ، اسے حضرت عثمان کے پاس لے جایا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور یہ انہی سے اس بارے میں سوال کرے۔ انہوں دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہماری رائے تو یہ ہے کہ وہ وارث ہوگی۔ اس نے کہا کہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس لئے کہ یہ ان عورتوں میں سے نہیں جو حیض سے مایوس ہیں اور ان میں سے بھی نہیں جنہیں حیض نہیں آتا۔ اس کو حیض نہ آنے کی وجہ بچے کو دودھ پلانا ہے۔ اس کے بعد آدمی نے اپنا بچہ اس سے لے لیا، بچے کادودھ چھڑوا دینے کے بعد اس عورت کو ایک حیض آیا، پھر دوسرے مہینے اسے دوسرا حیض آیا، پھر عورت کو تیسرا حیض آنے سے پہلے آدمی کا انتقال ہوگیا تو وہ عورت اس کی وارث بن گئی۔