حدیث نمبر: 19994
١٩٩٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن (جويبر) (١) عن الضحاك بن مزاحم أن امرأة تزوجت شابا فطلقها تطليقة أو تطليقتين قال: فاتاها وهي تغتسل من الحيضة الثالثة فقال: يا فلانة! إني قد راجعتك، فقالت: كذبت! ليس ذلك (إليك) (٢) فارتفعوا إلى (السلطان) (٣) عمر بن الخطاب وعنده عبد اللَّه بن مسعود فقال عمر: ما ترى يا أبا عبد الرحمن؟ قال: فقال: أنشدك باللَّه هل كنت (لطمته) (٤) بالماء؟ قالت: ما فعلت! قال: فقال: خذ بيدها (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عورت نے کسی نوجوان سے شادی کی ۔ اس نوجوان نے اسے ایک یا دو طلاقیں دے دیں۔ پھر وہ اس کے پاس اس وقت آیا جب وہ عورت تیسرے حیض کا غسل کررہی تھی۔ اور اس سے کہا کہ اے فلانی ! میں نے تجھ سے رجوع کیا۔ اس عورت نے کہا کہ تو نے جھوٹ بولا ! تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ پھر یہ مقدمہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا۔ ان کے پاس حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اے ابو عبدالرحمن ! آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عورت کو قسم دے کر پوچھا کہ کیا تو نے اپنے جسم پر پانی ڈال لیا تھا ؟ اس نے کہا نہیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نوجوان سے فرمایا کہ اس کا ہاتھ پکڑکر لے جا۔

حواشی
(١) في [س]: (جبير).
(٢) في [س]: (عليك).
(٣) في [جـ]: سقطت.
(٤) في [س]: (لطيمته).
(٥) منقطع ضعيف جدًا؛ الضحاك لم يدرك عمر، وجويبر متروك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19994
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19994، ترقيم محمد عوامة 19234)