حدیث نمبر: 19949
١٩٩٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن يوسف بن ماهك عن أمه (مسيكة) (١) أن امرأة زارت أهلها، وهي في عدة (فتمخضت) (٢) (عندهن) (٣)، (فبعثوني) (٤) إلى عثمان بعد (ما) (٥) صلى العشاء وأخذ مضجعه فقلت: إن فلانة زارت أهلها، وهي في عدتها، وهي (تمخض) (٦) فما تأمرني؟ (قال) (٧): (فآمر ⦗٣٨٤⦘ بها) (٨) أن تحمل إلى (بيتها) (٩) في تلك الحال (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مسیکہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت عدت میں اپنے گھروالوں سے ملاقات کرنے گئی۔ وہاں اس کے بچے کی ولادت کا وقت قریب آگیا۔ ان لوگوں نے مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں۔ اس وقت وہ عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے بستر پرجاچکے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ فلاں عورت اپنی عدت میں اپنے گھروالوں سے ملاقات کے لئے گئی تھی وہاں اسے بچے کی پیدائش کا درد ہونے لگا ہے۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے اسی حال میں اس کے گھر لے جایا جائے۔

حواشی
(١) في [س]: (سيكة).
(٢) في [أ، ب]: (فمتحضت)، والمراد: قرب الولادة.
(٣) في [خ]: (عندهم).
(٤) في [أ، ب، س]: (فنعت)، وفي [جـ، ز، ك]: (فبعثن)، وفي [ط، هـ]: (فبعث).
(٥) في [هـ]: (أن).
(٦) في [أ، ب]: (تمحض)، وفي [جـ]: (تحض).
(٧) في [س]: (فقال).
(٨) في [س]: (آمرها).
(٩) في [أ، ب]: (ابنتها).
(١٠) مجهول؛ لجهالة مسيكة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19949
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19949، ترقيم محمد عوامة 19191)