مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في (ذمية) طلقت أو مات عنها ؤوجها فأسلمت في العدة، كم يكون عليها (من) العدة؟ باب: اگر ذمیہ عورت کو طلاق ہوجائے یااس کا خاوند مرجائے اور وہ عدت میں مسلمان ہوجائے تو کتنی عدت گزارے گی؟
حدیث نمبر: 19894
١٩٨٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن مهدي عن أبي حرة قال: سئل الحسن عن نصرانية (و) (١) (نصراني) (٢) فأسلمت (أيفرق) (٣) بينهما؟ قال: نعم، قال: عليها عدة؟ (قال: (نعم!) (٤) عليها عدة) (٥): ثلاث حيض أو ثلاثة أشهر.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا کہ اگر کوئی نصرانی عورت جو کہ ایک نصرانی کے نکاح میں تھی۔ اگر اسلام قبول کرتی ہے تو کیا ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اس پر عدت لازم ہوگی، تین حیض یاتین مہینے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ط]: (أو).
(٢) في [جـ]: (نصران).
(٣) في [س، ط، هـ]: (يفرق).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) سقط من: [س].