مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في المرتد عن الإسلام؟ أعلى امرأته عدة؟ باب: کیا مرتد کی بیوی پر عدت لازم ہوگی؟
حدیث نمبر: 19889
١٩٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن أشعث عن الشعبي والحكم قالا في الرجل المسلم يرتد عن الإسلام ويلحق بأرض العدو، قالا: تعتد (امرأته) (١) ثلاثة قروء إن كانت تحيض، وإن كانت لا تحيض فثلاثة أشهر، وإن كانت (حاملٌ أن تضع) (٢) حملها ثم تزوج إن شاءت، وإن هو رجع (فتاب) (٣) قبل أن تنقضي عدتها (يثبتان) (٤) على نكاحهما.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر کافروں کی سرزمین میں چلا جائے تو اس کی بیوی کو اگر حیض آتا ہو تو تین حیض عدت گزارے گی اور اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے۔ اگر حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ پھر وہ چاہے تو شادی کرسکتی ہے۔ اگر اس کا خاوند عدت پوری ہونے سے پہلے واپس آجائے اور توبہ کرلے تو ان کا نکاح باقی رہے گا۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: (حاملًا فتضع)، وفي [ط]: (حاملًا أن تضع)، ولعل كان هنا تامة.
(٣) في [ط]: (مطموسة).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (يثيبان)، وفي [س]: (ثبتان).