مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل تكون تحته الأمة فيموت ثم تعتق بعد موته باب: اگر کسی شخص کے نکاح میں باندی ہو اور وہ آدمی مرجائے اور اس کی موت کے بعد باندی کو بھی آزاد کردیا جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19872
١٩٨٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عمر بن زرعة عن ابن سالم عن الشعبي أنه كان يقول: إذا توفي عنها زوجها وهي مملوكة؛ فأدركها العتق؛ وهي في عدتها (فتتم) (١) أربعة أشهر وعشرًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کا خاوند انتقال کرجائے اور پھرا سے آزاد بھی کردیا جائے اور وہ عدت میں ہو تو وہ چار مہینے دس دن پورے کرے گی۔
حواشی
(١) في [هـ]: (قسم)، وفي [ز]: (فيتم)، وفي [أ، ب]: (فتتم)، وفي [ز]: (فيتم).