مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل تحته الأمة فيطلقها تطليقة ثم تعتق﴾ باب: اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19870
١٩٨٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد اللَّه بن نمير قال: نا إسماعيل بن أبي خالد عن عامر قال: إذا طلقت الأمة تطليقتين ثم أعتقت عند ذلك، فعدتها عدة الأمة وإذا طلقت واحدة ثم أعتقت عند ذلك فعدتها عدة الحرة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی باندی کو دو طلاقیں دی گئیں پھر اسے آزاد کردیا گیا تو اس کی عدت باندی والی عدت ہوگی اور اگر اسے ایک طلاق دینے کے بعد آزاد کیا گیا تو اس کی عدت آزاد عورت والی عدت ہوگی۔