مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل تحته الأمة فيطلقها تطليقة ثم تعتق﴾ باب: اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19867
١٩٨٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن يونس عن الحسن أنه قال: إذا طلق الرجل امرأته وهي أمة تطليقة ثم أعتقت في العدة فعدتها عدة (حرة) (١) وإذا ⦗٣٦٠⦘ طلقها تطليقتين، ثم أعتقت قال: (لا) (٢) يتزوجها حتى (تتزوج) (٣) زوجًا غيره وعدتها عدة (أمة) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے اپنی ایسی بیوی کو جو کہ باندی تھی ایک طلاق دے دی، پھر عدت کے دوران اسے آزاد بھی کردیا گیا تو وہ آزاد عورت والی عدت گزارے گی۔ اور جب اس کو دو طلاقیں دیں اور پھر وہ آزاد کردی گئی تو وہ اس وقت تک اس سے شادی نہیں کرسکتا جب تک وہ کسی اور سے شادی نہ کرلے۔ اس کی عدت باندی والی عدت ہوگی۔
حواشی
(١) في [س]: (الحر).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ط]: (تزوج).
(٤) في [أ، س، هـ]: (الأمة).