مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل تحته الأمة فيطلقها تطليقة ثم تعتق﴾ باب: اگر ایک آدمی کے نکاح میں کوئی باندی ہو اور وہ اسے ایک طلاق دے دے پھر اس باندی کو آزاد کردیا جائے تو اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19866
١٩٨٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا طلقت تطليقة ثم (أدركتها عتاقه) (١) قبل أن تنقضي عدتها؛ اعتدت عدة (الحرة) (٢)، وإذا طلقت تطليقتين ثم (أدركتها عتاقة) (٣) اعتدت عدة الأمة لما بانت منه، والمتوفى عنها (٤) كذلك.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کسی باندی کو ایک طلاق دی جائے اور پھر اس کو عدت کے پورا ہونے سے پہلے آزادی مل جائے تو وہ آزاد عورت والی عدت گزارے گی۔ اگر اسے دو طلاقیں دی جائیں اور پھر اسے آزادی مل جائے تو وہ باندی والی عدت گزارے گی۔ یہی حکم اس باندی کا ہے جس کا خاوند مرجائے۔ اور پھر اسے آزادی بھی مل جائے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (أدركها عتاقه).
(٢) في [س]: (الحر).
(٣) في [أ] هـ]: (أدركها عتاقه).
(٤) سقط من: [أ، ب، س، ط].