مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته وهي مستحاضة (بم) تعتد؟ باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو استحاضہ کی حالت میں طلاق دے تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟
١٩٨٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن جعفر بن أبي (وحشية) (١) (٢) عن جابر بن زيد قال: تذاكر ابن عباس وابن عمر (امرأة) (٣) المفقود فقالا جميعًا: تربص أربع سنين، ثم يطلقها ولي زوجها، ثم تربص أربعة أشهر وعشرًا، ثم تذاكرا النفقه فقال ابن عمر: لها النفقة في ماله (لحبسها نفسها) (٤) في سببه، فقال ابن عباس: ليس كذلك، إذا (تجحف) (٥) بالورثة، ولكنها تأخذ عليه في ماله، فإن قدم فذلك (لها) (٦) عليه في ماله (وإلا) (٧) فلا شيء (لها) (٨).حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے مابین اس عورت کے بارے میں گفتگو ہوئی جس کا خاوند گم ہوگیا ہو، دونوں حضرات نے فرمایا کہ وہ چار سال انتظار کرے گی پھر اس کے خاوند کا ولی اسے طلاق دے دے گا، پھر وہ چار مہینے اور دس دن تک عدت گذارے گی، پھر ان دونوں حضرات کے درمیان نفقہ کے بارے میں گفتگو ہوئی تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ عورت کو مرد کے مال میں سے نفقہ ملے گا کیونکہ اس کی وجہ سے عورت رکی رہی ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے، اس طرح تو ورثہ کا نقصان ہوگا، البتہ عورت مرد کے مال میں سے لے گی اگر وہ آگیا تو وہ مال عورت کا ہوگا اور اگر وہ نہ آیا تو عورت کو کچھ نہیں ملے گا۔