مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته وهي مستحاضة (بم) تعتد؟ باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو استحاضہ کی حالت میں طلاق دے تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟
حدیث نمبر: 19802
١٩٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد (١) عن قتادة عن عكرمة: أن (من) (٢) (ريبة) (٣) المستحاضة والتي لا تستقيم لها حيضة تحيض في ⦗٣٤٥⦘ (الشهر) (٤) مرتين وفي (الأشهر) (٥) مرة: عدتها ثلاثة أشهر.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مستحاضہ اور وہ عورت جس کے حیض کی کوئی ترتیب نہ ہو (کبھی ایک مہینے میں دو مرتبہ آجائے اور کبھی کئی مہینوں میں ایک مرتبہ آئے) اس کی عدت تین ماہ ہے۔ حضرت قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے تھے۔
حواشی
(١) في [ك]: زيادة (عن سعيد).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [س]: (رئيه)، وفي [أ، ب، ط]: (زينة)، وفي [هـ]: (رائه).
(٤) في [ب]: (أشهر).
(٥) في [س]: (الشهر).