مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته وهي مستحاضة (بم) تعتد؟ باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو استحاضہ کی حالت میں طلاق دے تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟
حدیث نمبر: 19800
١٩٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير (بن) (١) عبد الحميد عن مغيرة عن حماد قال: إذا طلق الرجل المستحاضة، فحاضت (الثالثة) (٢) أدنى ما (كانت) (٣) تحيض فلا يملك زوجها الرجعة، ولا تغتسل ولا تصلي حتى يأتي عليها أكثر (ما) (٤) كانت تحيض.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو استحاضہ کی حالت میں طلاق دے دے، اگر اسے تیسرا حیض ، حیض کی معمول کی مدت سے پہلے آجائے تو اس کا خاوند رجوع کا اختیار نہیں رکھتا، وہ غسل نہ کرے اور نہ نماز پڑھے یہاں تک کہ جتنے دن اسے حیض آتا ہے اس سے زیادہ دن گذر جائیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز، ك]: (عن).
(٢) في [س]: (الثلاثة).
(٣) في [س]: (مانت).
(٤) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (مما).