مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: لكل مطلقة متعة باب: جن حضرات کے نزدیک ہر طلاق یافتہ عورت کے لئے متعہ ہے
حدیث نمبر: 19772
١٩٧٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يزيد عن ابن أبي عروبة عن قتادة قال: قلت لسعيد بن المسيب: إن الحسن وأبا العالية يجعلان للمطلقة التي (١) (تدخل) (٢) بها المتاع، والتي لم يدخل بها المتاع، فقال سعيد: إنما كان لها في سورة الأحزاب، فلما نزلت سورة البقرة جعل (للتي) (٣) فرض لها نصف الصداق ولا متعة لها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ حسن رحمہ اللہ اور حضرت ابوعالیہ رحمہ اللہ مدخول بہا اور غیرمدخول بہا دونوں کے لئے متعہ کو لازم قرار دیتے تھے، حضرت سعید رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سورة الاحزاب میں یہی تھا، جب سورة البقرۃ نازل ہوئی تو اس عورت کے لئے مہر کا آدھا فرض کردیا گیا جس کے لئے مہر مقرر ہوا تھا اور اسے متعہ نہیں ملے گا۔
حواشی
(١) في [جـ، ز، ك]: زيادة (قد).
(٢) في [ك]: (تدخل)، وفي [جـ، ز]: (دخل)، وفي [ك]: (جل)، وفي [ط، هـ]: (يدخل).
(٣) في [س]: (التي).