حدیث نمبر: 19681
١٩٦٨١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو الأحوص عن سماك (عن) (١) (حريث) (٢) (ابن) (٣) (عميرة) (٤) عن أم عطية قالت: قال جبير لأمرأته: (إن) (٥) ابن أخي مع ابنك، فقالت: ما أستطيع أن أرضع (اثنين) (٦) قال: فحلف أن لا يقربها حتى تفطمه قال: فلما (فطموه) (٧) مر به على المجلس فقال القوم: حسن ما غذوتموه قال: فقال جبير: إني (حلفت) (٨) أن لا (أقربها) (٩) حتى تفطمه، قال: فقال القوم: هذا إيلاء، فقال له علي: إن كنت فعلت ذلك غضبًا فلا تحل لك امرأتك، (وإلا) (١٠) فهي امرأتك (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ حضرت جبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرے بھائی کا بیٹا تیرے بیٹے کے ساتھ دودھ پئے گا، انہوں نے کہا کہ میں دو بچوں کو دودھ نہیں پلا سکتی، حضرت جبیر رحمہ اللہ نے قسم کھالی کہ جب تک وہ اس بچے کو دودھ نہیں چھڑا دیتیں اس وقت تک وہ اپنی بیوی کے قریب نہ جائیں گے۔ جب اس بچے کا دودھ چھڑا دیا گیا اور وہ لوگوں کے پاس سے گذرا تو لوگوں نے کہا کہ تم نے اسے اچھی غذا دی ہے، حضرت جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس وقت تک اپنی بیوی کے قریب نہیں جاؤں گا جب تک وہ اس کا دودھ نہیں چھڑا دیتی، لوگوں نے کہا کہ یہ ایلاء ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم نے غصے میں ایسا کیا تھا تو تمہارے لئے تمہاری بیوی حلال نہیں اور اگر غصے میں نہیں کیا تو یہ تمہاری بیوی ہے۔

حواشی
(١) في [جـ، هـ]: (بن).
(٢) في [أ، س، هـ]: (حرب)، وفي [ز]: (حريب).
(٣) في [جـ، هـ]: (عن).
(٤) في [جـ]: (مغيرة)، وقد وقع في هذا الإسناد اختلاف كبير، وانظر هذا الإسناد في: تفسير ابن جرير ٢/ ٤١٧، والأم ٧/ ١٧٤، ومصنف عبد الرزاق (١١٦٣٢)، وسنن سعيد ١/ (١٨٧٤)، والبيهقي ٧/ ٣٨٢، والتاريخ الكبير ٧/ ١٢، والجرح والتعديل ٣/ ٢٦٢ و ٦/ ٣٨١ و ٢/ ٥١٣، والمحلى ١٠/ ٤٥.
(٥) في [هـ]: (أرضعي).
(٦) في [أ، ب، ك]: (اثنتين).
(٧) في [س]: (طموه).
(٨) في [ط]: (حلف)، وفي [ك]: (فحلف).
(٩) في [س، ط]: (يقربها).
(١٠) في [أ، ب]: (وإن لا).
(١١) مجهول؛ لجهالة حريث بن عميرة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19681
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19681، ترقيم محمد عوامة 18947)