حدیث نمبر: 19603
١٩٦٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن منصور عن (١) إبراهيم عن علقمة (قال) (٢): (آلى) (٣) ابن أنس من امرأته (فلبثت) (٤) ستة أشهر، (فبينما) (٥) هو جالس في المجلس إذ ذكر، فأتى ابن مسعود فقال: أعلمها أنها قد ملكت (أمرها) (٦)، فأتاها (فأخبرها) (٧) فقالت: (فأنا) (٨) أهلُك، وأصدقها رطلًا (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ایلاء کیا، وہ عورت چھ مہینے تک ٹھہری رہی، ایک مرتبہ وہ آدمی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ اسے ایلاء یاد آگیا، وہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس عورت کو بتادو کہ وہ اپنے معاملے کی خود مالک بن گئی ہے، وہ آدمی اس کے پاس آیا اور اسے خبر دی، اس عورت نے کہا کہ میں تیری ہی بیوی ہوں اور آدمی نے اس عورت کو ایک رطل مہر دیا۔

حواشی
(١) في [ط]: زيادة (أبي).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك، هـ].
(٣) في [جـ]: (لا).
(٤) في [ط، س]: (فلبث).
(٥) في [س]: (فينا).
(٦) في [أ، ب، س، ط]: (نفسها).
(٧) في [ك]: (فأخبرتها).
(٨) في [س، هـ]: (فأبى)، وفي [ز]: (فأنا أملك)، وفي [أ]: (فإني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19603
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19603، ترقيم محمد عوامة 18876)