مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل، متى يطيب له أن يخلع امرأته؟ باب: آدمی کے لئے اپنی بیوی کو خلع کا کہنا کب درست ہے؟
حدیث نمبر: 19439
١٩٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن (إبراهيم) (١) قال: لا يحل له أن يأخذ (فدية) (٢) من امرأته (إلا أن لا) (٣) تطيعه ولا تبر له قسمًا فإن فعلت ذلك ⦗٢٦٧⦘ فكان من قبلها شيء حلت له الفدية، فإن أبي أن يقبل منها الفدية وأبت أن تطيعه بعثا حكمين، حكمًا من أهله وحكمًا من أهلها.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد کے لئے صرف اتنی بات پر بیوی سے خلع کا فدیہ لینا درست نہیں کہ وہ اس کی اطاعت نہ کرے اور اس کی قسم کو پورا نہ کرے، البتہ اگر وہ ایسا کرلے تو اس کے لئے فدیہ حلال ہے، اگر خاوند فدیہ قبول کرنے سے انکار کرے اور عورت اطاعت سے انکار کرے تو دونوں فیصلے کے لئے دو آدمی مقرر کریں ایک عورت کے گھر والوں سے ایک مرد کے گھر والوں سے۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (أبيه).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [ك]: (الا الا) وفي [س، هـ]: (إن لا).