حدیث نمبر: 19430
١٩٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن عمرو عن الحسن (١) قال: كان الرجل في الجاهلية يطلق ثم (يرجع) (٢) يقول: كنت لاعبًا، ويعتق ثم (يرجع) (٣) (و) (٤) يقول: كنت لاعبا، فأنزل اللَّه: ﴿(وَلَا) (٥) تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا﴾ فقال رسول اللَّه ﷺ: "من طلق أو حرر (أو أنكح) (٦) أو نكح فقال: إني كنت لاعبًا فهو جائز" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، غلام کو آزاد کرتا تھا اور رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا { وَلاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ اللہِ ہُزُوًا } اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے طلاق دی، غلام کو آزاد کرایا، نکاح کرایا یا نکاح کیا اور پھر کہا کہ میں تو مزاح کررہا تھا یہ چیزیں پھر بھی نافذ ہوجائیں گی۔

حواشی
(١) في [خ]: زيادة (عن أبي الدرداء)، ورواية ابن أبي شيبة مرسلة كما في الدر المنثور (١/ ٦٨٣).
(٢) في [أ، ب، جـ، ك]: (يراجع).
(٣) في [أ، ب، جـ، ك]: (يراجع).
(٤) في [أ، ب، ك]: زيادة (و)، وكذلك في [ط].
(٥) سقطت (و) في [جـ، س، ك].
(٦) سقط من: (س): (أو أنكح).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19430
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف جدًا، الحسن تابعي، وعمرو بن عبيد متبروك، أخرجه مرسلًا ابن جرير في التفسير ٢/ ٤٨٢، وابن أبي حاتم (٢٢٤٨)، وأخرجه متصلًا من حديث أبي الدرداء ابن عدي ٥/ ١٠٩، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٤/ ٢٨٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19430، ترقيم محمد عوامة 18719)