مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: ليس في الطلاق والعتاق لعب، وقال: هو له لازم باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ طلاق اور غلام کو آزاد کرنے میں مزاح نہیں ہوتا، یہ لازم ہوجاتے ہیں
١٩٤٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن عمرو عن الحسن (١) قال: كان الرجل في الجاهلية يطلق ثم (يرجع) (٢) يقول: كنت لاعبًا، ويعتق ثم (يرجع) (٣) (و) (٤) يقول: كنت لاعبا، فأنزل اللَّه: ﴿(وَلَا) (٥) تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا﴾ فقال رسول اللَّه ﷺ: "من طلق أو حرر (أو أنكح) (٦) أو نكح فقال: إني كنت لاعبًا فهو جائز" (٧).حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں آدمی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، غلام کو آزاد کرتا تھا اور رجوع کرلیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تو مزاح کررہا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا { وَلاَ تَتَّخِذُوا آیَاتِ اللہِ ہُزُوًا } اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے طلاق دی، غلام کو آزاد کرایا، نکاح کرایا یا نکاح کیا اور پھر کہا کہ میں تو مزاح کررہا تھا یہ چیزیں پھر بھی نافذ ہوجائیں گی۔