حدیث نمبر: 19279
١٩٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن (هاشم) (١) عن ابن أبي ليلى عن الشعبي قال: أهدى رجل من همدان لعلي جارية، فلما أتته سألها (علي) (٢): أفارغة أم مشغولة؟ فقالت: مشغولة يا أمير المؤمنين، قال: فاعتزلها وأرسل إلى زوجها فاشترى بضعها منه بعشرين وأربعمائة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمدان کے ایک آدمی نے اپنی ایک باندی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدیہ میں دی، جب وہ ان کے پاس آئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے سوال کیا کہ تو فارغہ ہے یا مشغول ہے ؟ اس نے کہا اے امیر المؤمنین ! میں مشغول ہوں یعنی میرا خاوند ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے پیچھے ہٹ گئے اور اس کے خاوند کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس کا حق چار سو بیس میں خرید لیا۔

حواشی
(١) في [س، هـ]: (هشام).
(٢) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19279
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19279، ترقيم محمد عوامة 18579)