مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من قال: ليس هو بطلاق، فلا يطأها الذي يشتريها حتى يطلق باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں ہے، البتہ خریدنے والا اس وقت تک جماع نہیں کرسکتا جب تک اسے طلاق نہ دے دی جائے
حدیث نمبر: 19279
١٩٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن (هاشم) (١) عن ابن أبي ليلى عن الشعبي قال: أهدى رجل من همدان لعلي جارية، فلما أتته سألها (علي) (٢): أفارغة أم مشغولة؟ فقالت: مشغولة يا أمير المؤمنين، قال: فاعتزلها وأرسل إلى زوجها فاشترى بضعها منه بعشرين وأربعمائة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمدان کے ایک آدمی نے اپنی ایک باندی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہدیہ میں دی، جب وہ ان کے پاس آئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے سوال کیا کہ تو فارغہ ہے یا مشغول ہے ؟ اس نے کہا اے امیر المؤمنین ! میں مشغول ہوں یعنی میرا خاوند ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سے پیچھے ہٹ گئے اور اس کے خاوند کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس کا حق چار سو بیس میں خرید لیا۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (هشام).
(٢) سقط من: [أ، ب].