حدیث نمبر: 19226
١٩٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن سليمان التيمي (عن الحسن) (١) في المرأة تدعي أن زوجها طلقها ثلاثًا وليس لها بينة قال: كان يأمرها أن تقر عنده ولا (تفر) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے خاوند نے اسے تین طلاقیں دے دی ہیں، اس عورت کے پاس کوئی گواہی نہیں ہے وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ اسی کے پاس رہے اس کے پاس سے کہیں نہ جائے۔

حواشی
(١) سقط من: [س، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: (تقر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19226، ترقيم محمد عوامة 18533)