حدیث نمبر: 19202
١٩٢٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا يعلى (عن) (١) إسماعيل قال: قال عامر: زعم أناس أن عليًا كان يجعلها عليه حراما حتى تنكح زوجًا غيره واللَّه ما قالها علي قط (ولأنا) (٢) أعلم بها من الذي قالها؟ إنما قال: ما أنا بمُحلها (٣) ولا بمحرمها عليه (إن شاء فليتقدم) (٤) وإن شاء فليتأخر (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مسلک یہ تھا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے لئے حرام کہہ دے تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور عورت اس خاوند کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے۔ خدا کی قسم ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کبھی ایسا نہیں فرمایا اور نہ میں کسی ایسے شخص کو جانتا ہوں جو اس کا قائل تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ میں نہ تو اسے حلال قرار دیتا ہوں اور نہ حرام، اگر وہ چاہے تو تقدم کرلے اور اگر چاہے توتأخر کرلے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (بن).
(٢) في [س، هـ]: (ولا أنا).
(٣) في [ك]: زيادة (له).
(٤) تكرر في: [ط].
(٥) منقطع؛ عامر لا يروي عن علي.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19202
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19202، ترقيم محمد عوامة 18509)