مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الحرام، من قال لها: أنت علي حرام، من رآه طلاقا باب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19186
١٩١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الوهاب عن سعيد عن (مطر) (١) عن حميد ابن (هلال) (٢) عن (سعد) (٣) بن هشام أن زيد بن ثابت قال: هي ثلاث، لا تحل له حتى تنكح زوجًا غيره (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو تین طلاقیں ہوجائیں گی اور عورت اس مرد کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کرلے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز، ط، ك، هـ]: (مطرف)، وهو موافق لما في الاستذكار ٦/ ١٧، وانظر: تلخيص الحبير ٣/ ٢١٦، وفي سنن البيهقي ٧/ ٣٤٤: (عمر بن عامر).
(٢) في [س]: (بلال).
(٣) في [س، ز، ط، ك]: (سعيد).