مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الحرام، من قال لها: أنت علي حرام، من رآه طلاقا باب: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19185
١٩١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إن نوى طلاقًا فأدنى ما يكون (من) (١) نيته في ذلك (واحدة بائنة) (٢)؛ إن شاء وشاءت تزوجها، وإن نوى ثلاثًا (فثلاث) (٣).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تو مجھ پر حرام ہے اور طلاق کی نیت کی تو ایک طلاق بائنہ ہوگی، اگر وہ دونوں چاہیں تو آدمی اس سے نکاح کرلے اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔
حواشی
(١) في [أ، ك]: زيادة (من).
(٢) في [س، ط، هـ]: (واحدة بائنة).
(٣) في [س، ك]: (فثلاثا).