مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته البتة باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19143
١٩١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر (١) بن عمرو بن حزم قال: قال عمر بن عبد العزيز: يا أبا بكر! البتة، ما يقول الناس فيها؟ فقلت له: كان أبان بن عثمان يجعلها واحدة فقال عمر: لو (كان) (٢) الطلاق ألفًا ما أبقت البتة منه شيئًا، من قال: البتة، فقد رمى بالغاية القصوى.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے طلاق قطعی کے بارے میں سوال کیا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک طلاق ہوگی۔ حضرت عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر طلاقیں ایک ہزار بھی ہوں تو طلاق قطعی دینے سے ایک طلاق بھی باقی نہیں رہے گی۔ جس نے قطعی کا لفظ کہا اس نے انتہاء کو چھو لیا۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، س، ز]، وزاد في [ط، هـ]: (ابن محمد).
(٢) في [أ، ب، جـ، ك]: (أن).