مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق امرأته البتة باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
١٩١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن نافع أن (رجلًا) (١) جاء (بظئر) (٢) (له) (٣) إلى عاصم بن عمر وابن الزبير فقال: إن ظئري هذا طلق امرأته البتة قبل أن يدخل بها فهل عندكما بذلك علم؟ أو هل (تجدان) (٤) له رخصة (فقالا) (٥): لا و (لكنا) (٦) تركنا ابن (عباس) (٧) وأبا هريرة عند عائشة فأتهم فسلهم ثم ارجع إلينا فأخبرنا، فأتاهم فسألهم فقال له أبو هريرة: لا تحل له حتى ⦗١٩٧⦘ تنكح زوجًا غيره (و) (٨) قال: ابن عباس: (بتت) (٩) وذكر (من) (١٠) عائشة متابعة لهما (١١).حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی رضاعی ماں کے خاوند کو حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے اور فرمایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طلاق قطعی دے دی ہے، آپ کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہے ؟ یا آپ کے پاس اس بارے میں کوئی رخصت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو علم نہیں، تم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ م کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو، پھر آکر ہمیں بھی بتاؤ۔ وہ گئے اور ان سے سوال کیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اس کے لئے حلال نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ بائنہ ہوگئی۔ جبکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بھی انہی حضرات کی متابعت کو نقل کیا۔