مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا فيه إذا خيرها فسكتت ولم (تقل) شيئا باب: اگر ایک آدمی نے عورت کو اختیار دیا لیکن وہ خاموش رہی اور اس نے کوئی بات نہ کی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19121
١٩١٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (حميد) (١) عن حسن عن مغيرة عن إبراهيم قال: سكوتها رضى بالزوج.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اختیار دیا اور وہ خاموش رہی تو خاموشی خاوند کے ساتھ رہنے کی رضامندی کی علامت ہے۔
حواشی
(١) في [س]: (مبارك).