مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يخير امرأته فلا (تختار) حتى تقوم (من) مجلسها باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو اختیار دے اور عورت اختیار قبول نہ کرے اور مجلس سے اٹھ جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19101
١٩١٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن المثنى عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان (قالا) (١): أيما رجل ملّك امرأته أمرها (أو) (٢) خيّرها فافترقا من ذلك المجلس فلم (تحدث) (٣) فيه شيئًا فأمرها إلى زوجها (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ما فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو اختیار دے دیا، پھر ان کی مجلس برخاست ہوگئی اور عورت نے کوئی بات نہ کی تو معاملہ مرد کے پاس چلا جائے گا۔
حواشی
(١) في [س، ط]: (قال).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (و).
(٣) في [أ، ب]: (يحدث).