مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في (رجل) جعل (أمر) امرأته بيد رجل فيطلق، ما قالوا فيه؟ باب: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کا معاملہ کسی دوسرے آدمی کے سپرد کردے، پھر وہ دوسرا آدمی طلاق دے دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19058
١٩٠٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا كثير (بن) (١) هشام عن جعفر بن برقان قال: سمعت معمرا يذكر عن الزهري في الرجل يجعل طلاق امرأته بيدها أو (بيد) (٢) أخيها أو أبيها أو بيد أحد، فالقول ما قال: إن طلقها واحدة فواحدة، وإن (طلقها ثنتين) (٣) فثنتين، وإن طلق ثلاثًا فثلاثًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق کا معاملہ اسی کے سپرد کرے، اس کے بھائی یا باپ یا کسی اور کے سپرد کردے تو مختار شخص جو بھی کرے وہ نافذ ہوگا۔ اگر ایک طلاق دی تو ایک، دو دیں تو دو ، اور اگر تین دیں تو تین۔
حواشی
(١) في [س، ط]: (عن).
(٢) سقط من: [جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب، ط]: (طلق اثنتين)، وفي [جـ، ك]: (طلق ثنتين).