مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل تكون (له) امرأتان (نهى) (إحداهما) عن الخروج فخرجت التي لم (ينه) فقال: (فلانة) خرجت أنت طالق باب: ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھالہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلا ق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19032
١٩٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن جابر عن عامر في رجل كانت له امرأتان أو مملوكتان، فدعا إحداهما فقال: أنت طالق، فأجابته الأخرى قال: تطلق التي سمى، وإن (قال) (١) (لعبده) (٢) فمثل ذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی بیویاں یا دو باندیاں تھیں۔ اس نے ایک کو بلایا اور کہا کہ تجھے طلاق ہے۔ اسے دوسری نے جواب دیا تو اسے طلاق ہوگی جس کا اس نے نام لیا، اگر اپنے غلام سے کہا تب بھی یہی حکم ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (كان).
(٢) في [س]: (بعبد).