مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل تكون (له) امرأتان (نهى) (إحداهما) عن الخروج فخرجت التي لم (ينه) فقال: (فلانة) خرجت أنت طالق باب: ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھالہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلا ق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19029
١٩٠٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه قال في رجل قال لامرأته: إن خرجت فأنت طالق، (فاستعارت) (١) امرأة ثيابها فلبستها فأبصرها زوجها حين خرجت من الباب فقال: قد فعلت فأنت طالق، قال: يقع طلاقه على امرأته.مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نکلی تجھے طلاق ہے۔ اس کے بعد کسی عورت نے اس کی بیوی کے کپڑے مانگے اور پہن کر باہر جانے لگی، اس کے خاوند نے دیکھ کر کہا کہ تو باہر نکل گئی۔ لہٰذا تجھے طلاق ہے تو یہ طلاق اس کی بیوی کو ہوجائے گی۔
حواشی
(١) في [ط]: (فاستعادت).