مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل تكون (له) امرأتان (نهى) (إحداهما) عن الخروج فخرجت التي لم (ينه) فقال: (فلانة) خرجت أنت طالق باب: ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھالہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلا ق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 19028
١٩٠٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: ⦗١٧١⦘ (تطلقان) (١) جميعًا، تطلق التي أراد بتسميته إياها، وتطلق هذه بقوله لها: أنت طالق.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلا ق ہے۔ تو اس صورت میں دونوں کو طلاق ہوجائے گی، جس کا نام لیا اسے اس کے نام کی وجہ سے اور دوسری کو یہ کہنے کی وجہ سے کہ تجھے طلاق ہے۔
حواشی
(١) في [ط]: (تطلقا).