حدیث نمبر: 19027
١٩٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن في رجل له امرأتان نهى (إحداهما) (١) عن الخروج فخرجت التي لم تنه (فظن) (٢) أنها التي نهاها أن تخرج (فقال) (٣): فلانة خرجت، أنت طالق، قال: تطلق (التي) (٤) أراد ونوى.
مولانا محمد اویس سرور

حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی ! تو نکلی ؟ تجھے طلا ق ہے۔ تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ جس کی نیت کی ہے اسے طلا ق ہوگی۔

حواشی
(١) في [س]: (إحدهما)، وفي [ط، هـ]: (إحديهما).
(٢) في [أ، ب]: (فظهر).
(٣) في [س]: (قال).
(٤) في [ط، ك]: (الذي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 19027
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19027، ترقيم محمد عوامة 18351)