مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
من كان يرى طلاق المكره جائزا باب: جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
حدیث نمبر: 19026
١٩٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن (حصين) (١) عن الشعبي في ⦗١٧٠⦘ الرجل يُكره على أمر من أمر (العتاق) (٢) (أو) (٣) الطلاق، قال: إذا (أكرهه) (٤) السلطان جاز، وإذا (أكرهه) (٥) اللصوص لم يجز.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو طلاق یا عتاق پر مجبور کیا گیا تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر سلطان نے مجبور کیا تو درست ہے اور اگر چوروں نے مجبور کیا تو درست نہیں۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (حسين).
(٢) في [ط]: (التعاق).
(٣) في [ط]: (لو).
(٤) في [س]: (كرهه).
(٥) في [س]: (كرهه)، وفي [هـ]: (أكرهته).