مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يكتب طلاق امرأته بيده باب: اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ سے اپنی بیوی کی طلاق لکھے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18970
١٨٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن في الرجل يكتب إلى امرأته بطلاقها ثم يبدو له أن يمسك الكتاب، قال: ليس بشيء ما لم يتكلم وإن بعث إليها اعتدت من يوم يأتيها الكتاب.مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کے نام طلاق لکھی، پھر اسے خیال آیا کہ اس خط کو روک دے، تو اگر وہ تکلم نہ کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، اگر خط بیوی کی طرح بھیج دیا تو جس دن سے خط اسے ملے اسی دن سے وہ عورت عدت شمار کرے گی۔