حدیث نمبر: 18911
١٨٩١١ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن علية عن يونس قال: حدثني رجل من أهل الشَّام لم أر به بأسًا قال: كنا في غزاة فبرسم صاحب لنا فطلق امرأته ⦗١٤٥⦘ ثلاثًا فلما أفاق قالوا له: (قلت) (١): كذا وكذا، قال: ما أعلمني قلت من هذا قليلا ولا كثيرا (ولا) (٢) أعرفه، (فركب) (٣) رجل (منا) (٤) إلى عمر بن عبد العزيز في حاجة فلما قضى حاجته سأله عن ذلك فدينه.
مولانا محمد اویس سرور

یونس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شامی شخص نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، کہ ہمارے ایک ساتھی کو الٹی سیدھی باتیں کرنے والی بیماری ہوگئی، اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ جب اسے افاقہ ہوا تو لوگوں نے اس سے کہا کہ تو نے یہ یہ بات کی تھی، اس نے کہا کہ مجھے تو کوئی علم نہیں کہ میں نے اس طرح کی کوئی تھوڑی یا زیادہ بات کی ہو اور میں نہیں جانتا۔ ہم میں سے ایک سوار کسی ضرورت کے لئے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس گیا جب اس نے ضرورت پوری کرلی تو اس بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔

حواشی
(١) سقط من: [س، ط، هـ].
(٢) في [س]: (فلا)، وفي [خ]: (وما).
(٣) في [س]: (ركب).
(٤) في [س]: (لنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18911
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18911، ترقيم محمد عوامة 18250)