مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا: في الذي به الموتة يطلق؟ باب: جس شخص کو مُوتہ (بے ہوشی اور جنون کا دورہ) ہو اس کی طلاق کا حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 18888
١٨٨٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن أبي المعتمر عن قتادة قال: الجنون جنونان، فإن كان لا يفيق لم يجز له طلاق، وإن كان يفيق (فطلق) (١) ⦗١٤٠⦘ في حال (إفاقته) (٢) لزمه ذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنون کی دو قسمیں ہیں، اگر جنو ن سے افاقہ نہ ہوتا ہو تو طلاق جائز نہیں اور اگر افاقہ ہوجاتا ہے تو افاقہ کی حالت کی طلاق درست ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [س]، وفي [أ]: (فطلاق).
(٢) في [س]: (إفاقة).