مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18844
١٨٨٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن فضيل عن عقبة (بن) (١) أبي (العيزار) (٢) قال: سألت إبراهيم عن رجل طلق امرأته تطليقة أو تطليقتين فسأله رجل طلقت امرأتك كذا وكذا ثلاث أو أربع؟ فيقول الرجل: نعم! قال إبراهيم: بانت منه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن ابی عیزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں۔ پھر اس سے کسی آدمی نے سوال کیا تو کیا تو اپنی بیوی کو اتنی اتنی یعنی تین یا چار طلاقیں دے دیں اور آدمی نے جواب میں کہا ہاں تو ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ عورت بائنہ ہوجائے گی۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [هـ]: (العريان)، وفي [س]: (العران).