مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18843
١٨٨٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم (١) عن الرجل يقول لامرأته: أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق قال (٢): (هي ثلاث) (٣) إلا أن يكون نوى الأولى، وإذا قال: اعتدي فمثل ذلك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تین طلاقیں ہوجائیں گی اور اگر اس نے ایک کی نیت کی ہو تو ایک ہوگی، اور اگر بیوی سے کہا کہ عدت شمار کر تو بھی یہی حکم ہے۔
حواشی
(١) سيأتي الخبر برقم [١٨٨٥٩]، وفيه زيادة (وحمادًا).
(٢) في [ك]: (قالا).
(٣) في [س، هـ]: (لها).