مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18841
١٨٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن عبد ربه عن جابر بن زيد قال: سألته عن رجل طلق امرأته تطليقة ثم طلقها أخرى فكانتا (اثنتين) (١)، ثم لقيه رجل فقال: طلقت امرأتك؟ فقال: نعم! قال: فقال: إن كان إنما أراد ما (كان) (٢) طلق فليس عليه شيء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد ربہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا اس نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر ایک اور آدمی ملا اس نے بھی یہی سوال کیا تو اس نے پھر ہاں کہا۔ تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دونوں مرتبہ ہاں کہنے میں پہلی طلاق کی نیت تھی تو کچھ لازم نہیں۔
حواشی
(١) في [ط]: (اثنين).
(٢) زيادة من: [جـ، ط، ك، هـ].