حدیث نمبر: 18841
١٨٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود الطيالسي عن عبد ربه عن جابر بن زيد قال: سألته عن رجل طلق امرأته تطليقة ثم طلقها أخرى فكانتا (اثنتين) (١)، ثم لقيه رجل فقال: طلقت امرأتك؟ فقال: نعم! قال: فقال: إن كان إنما أراد ما (كان) (٢) طلق فليس عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد ربہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن زید رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا اس نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر ایک اور آدمی ملا اس نے بھی یہی سوال کیا تو اس نے پھر ہاں کہا۔ تو اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دونوں مرتبہ ہاں کہنے میں پہلی طلاق کی نیت تھی تو کچھ لازم نہیں۔

حواشی
(١) في [ط]: (اثنين).
(٢) زيادة من: [جـ، ط، ك، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18841
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18841، ترقيم محمد عوامة 18183)