مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18840
١٨٨٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن في رجل طلق امرأته (١) فلُقي (٢) [فقيل (له) (٣) طلقت امرأتك؟] (٤) فقال: نعم! فلقي آخر فقيل له: طلقت امرأتك؟ فقال: نعم! فرفع ذلك إلى عمر بن الخطاب فقال: ما نوى (٥).مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا اس نے پوچھا کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر ایک اور آدمی ملا اس نے بھی یہی سوال کیا تو اس نے پھر ہاں کہا۔ یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کی نیت کا اعتبار ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (امرأة).
(٢) في المطبوع: (رجلًا).
(٣) سقط من: [ط].
(٤) تكرر في: [أ، ب].
(٥) منقطع؛ الحسن عن عمر منقطع.