مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
ما قالوا في الرجل يطلق المرأة واحدة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت؟ فيقول: نعم! باب: اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اورآدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے توآدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18839
١٨٨٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا شريك عن الرجل يطلق المرأة فيلقاه الرجل فيقول: طلقت؟ فيقول. نعم، ثم يلقاه آخر فيقول: طلقت فيقول: نعم! فحدثنا ⦗١٢٩⦘ عن أبي إسحاق عن ابن (معقل) (١) والشعبي قالا: إذا أراد (الأول) (٢) فلا بأس.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل رحمہ اللہ اور حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو ایک طلاق دے، پھر اسے ایک آدمی ملے اور اس سے پوچھے کہ کیا تم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ؟ وہ جواب دے ہاں دے دی، پھر ایک اور آدمی ملے وہ بھی یہی سوال کرے تو آدمی جواب دے کہ ہاں دے دی تو اگر ان کو جواب دینے میں اس نے پہلی طلاق کی نیت کی تھی اور طلاق ایک ہی رہے گی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، هـ]: (مغفل).
(٢) في [ك]: (الأولى).