مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يقول لامرأته: أنت طالق أنت طالق (أنت طالق)، قبل أن يدخل عليها، متى يقع عليها؟ باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18832
١٨٨٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن شعبة عن الحكم وحماد (قالا) (١): بانت بالأولى (واثنتان ليستا) (٢) بشيء.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اور حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو وہ پہلے جملے سے ہی بائنہ ہوجائے گی اور باقی دونوں طلاقوں کا کوئی اثر نہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط، ك]: (قال).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (وثنتان)، وفي [أ، ب]: (ليستما).