مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في الرجل يقول لامرأته: أنت طالق أنت طالق (أنت طالق)، قبل أن يدخل عليها، متى يقع عليها؟ باب: اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18830
١٨٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن (الفقيمي) (١) عن أبي معشر عن إبراهيم قال: إذا قال قبل أن يدخل بها: أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق بانت بالأولى، و (الأخريان) (٢) (ليس بشيء) (٣).مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے کہا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو وہ پہلے جملے سے ہی بائنہ ہوجائے گی اور باقی دونوں طلاقوں کا کوئی اثر نہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س]: (العقيمي).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ك]: (والأخرتين)، وفي [ط]: (الأخريين).
(٣) في [هـ]: (ليستا بشيء).