حدیث نمبر: 18809
١٨٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن يحيى بن سعيد عن (بكير) (١) (بن) (٢) عبد اللَّه بن الأشج عن عطاء بن يسار قال: كنت جالسًا عند عبد اللَّه بن عمرو (فسأله) (٣) رجل (عن رجل) (٤) طلق امرأته بكرًا ثلاثًا قال عطاء: ⦗١٢١⦘ فقلت: ثلاث (٥) البكر واحدة وقال عبد اللَّه بن عمرو: ما يدريك؟ إنما أنت (قاص) (٦) (ولست) (٧) (بمفت) (٨)، الواحدة (تبينها) (٩) والثلاث تحرمها، حتى تنكح زوجا غيره (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا ان سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی باکرہ بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ باکرہ کو تین کا کیا مطلب، اس کے لئے تو ایک ہی کافی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم، تم قاضی ہو مفتی نہیں، ایک طلاق اسے بائنہ بنادے گی اور تین طلاقیں اسے حرام کردیں گی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے شادی کرے۔

حواشی
(١) في [ب، جـ، س، ط]: (بكر).
(٢) سقط من: [أ، ز].
(٣) في [س]: (سأله).
(٤) في [أ، ب، ط، ك]: زيادة (ثلاثًا).
(٥) في [ع]: زيادة (من).
(٦) في [س، هـ]: (قاض).
(٧) في [أ، ب، س، ط، ك]: (وليس).
(٨) في [أ، ب، س، ك، ط]: (مفتى)، وفي [هـ]: (بمفتي).
(٩) في [ز، هـ]: (تبتها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18809
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18809، ترقيم محمد عوامة 18153)