حدیث نمبر: 18760
١٨٧٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل عن عاصم (عن) (١) ابن سيرين عن علقمة عن (عبد اللَّه) (٢) (قال) (٣): أتاه رجل فقال: إنه كان بيني وبين امرأتي كلام فطلقتها عدد النجوم قال: تكلمت بالطلاق؟ قال: نعم، قال: قال عبد اللَّه: قد بين اللَّه الطلاق، (فمن أخذ به) (٤) (٥) فقد (بين) (٦) له، ومن لبس على نفسه جعلنا به لبسه، لا تلبسوا على أنفسكم و (نتحمله) (٧) عنكم (هو) (٨) (كما تقولون) (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ میری اور میری بیوی کے درمیان کچھ بات چیت بڑھ گئی اور میں نے اسے ستاروں کی تعداد کے برابر طلاق دے دی۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم نے طلاق کا لفظ کہا تھا ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو واضح کرکے بیان کردیا ہے، جو اس سے استفادہ کرے تو اس کے لئے وضاحت ہوجاتی ہے اور جو اسے اپنے لئے مشکل بنالے ہم اس کے لئے مشکل بنادیتے ہیں۔ خدا کی قسم ! اپنے نفوس کو ایسی مشکل میں نہ ڈالو جسے تمہاری طرف سے ہمیں برداشت کرنا پڑے۔ معاملہ وہی ہے جو تم کہتے ہو، معاملہ وہی ہے جو تم کہتے ہو۔

حواشی
(١) سقط من: في [أ، ب، س، ط].
(٢) في [س، ط]: (عبيد اللَّه).
(٣) في [س]: مكررة (قال).
(٤) في [أ، ب، س، ز، هـ]: (فعمن أخذته).
(٥) في [هـ]: زيادة (فمن طلق كما أمره اللَّه).
(٦) في [هـ]: (تبين).
(٧) في [ط]: (ونتجمله).
(٨) سقط من: في [س، ط].
(٩) في [س، ط]: (كما تقولون وكما تقولون)، وفي [جـ، ك]: (هو كما تقولون هو كما تقولون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطلاق / حدیث: 18760
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18760، ترقيم محمد عوامة 18110)