مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في (الرجل) يطلق امرأته مائة أو ألفا في قول واحد باب: اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کوایک جملے میں سو یا ہزار طلاقیں دیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18752
١٨٧٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن هارون بن عنترة عن أبيه قال: كنت جالسًا عند ابن عباس فأتاه رجل فقال: يا ابن عباس إنه طلق امرأته مائة مرة، وإنما قلتها مرة واحدة، فتبين مني بثلاث (١) هي واحدة؟ فقال: بانت (منك) (٢) بثلاث، وعليك وزر سبعة (٣) وتسعين (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عنترہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس آیا اور اس نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، میں نے یہ ایک ہی جملے میں دی ہیں، کیا وہ تین طلاقوں کے ذریعے مجھ سے بائنہ ہوگئی جبکہ وہ ایک ہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ تین طلاقوں کے ذریعے تجھ سے بائنہ ہوگئی اور تجھ پر ستانوے طلاقوں کا گناہ ہے۔
حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (أم).
(٢) في [أ، ب، ط، ك]: زيادة (منك).
(٣) كذا في النسخ.