مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطلاق
في (الرجل) يطلق امرأته مائة أو ألفا في قول واحد باب: اگر کسی آدمی نے اپنی بیوی کوایک جملے میں سو یا ہزار طلاقیں دیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 18750
١٨٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع (عن سفيان) (١) عن سلمة بن كهيل عن زيد بن وهب أن رجلًا بطالًا كان بالمدينة، طلق امرأته ألفًا (فرجع) (٢) إلى عمر فقال: إنما كنت ألعب، فعلا عمر رأسه (٣) (بالدرة) (٤) وفرق بينهما (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بہت زیادہ ہنسی مزاح کرنے والا آدمی تھا۔ اس نے اپنے بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، اس کا معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا گیا تو اس نے کہا کہ میں تو مزاح کررہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے سر پر کوڑا مارا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرادی۔
حواشی
(١) كذا في النسخ.
(٢) في [أ، ب، ك]: (فرفع).
(٣) في [أ، ب، س]: زيادة (بألف).
(٤) في [أ، ب]: (درة).