حدیث نمبر: 1094
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالأَمِيرُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ عَلَيْهِمْ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، أَلا وَإِنَّ الرَّجُلَ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ ، أَلا وَإِنَّ الْمَرْأَةَ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ ، أَلا وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ ، أَلا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: آپ سب نگہبان (ذمہ دار) ہیں اور آپ سب اپنی رعیت کے متعلق جوابدہ ہیں، پس لوگوں کا امیر ان کا ذمہ دار ہے اور ان کے متعلق (الله کے ہاں) جوابدہ ہے، خبردار! مرد اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور وہ ان کے بارے میں جوابدہ ہے، خبردار! بیوی اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق جوابدہ ہے، خبردار! غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس مال کے بارے میں جوابدہ ہے، سن لیں! آپ سب نگہبان (ذمہ دار) ہیں اور سب سے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔