حدیث نمبر: 1062
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ قَالَ : ثنا ابْنُ جَابِرٍ ، قَالَ : ثني أَبُو سَلامٍ ، قَالَ : ثني خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلا رَامِيًا ، فَكَانَ عُقْبَةُ الْجُهَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدْعُونِي ، فَيَقُولُ : اخْرُجْ بِنَا يَا خَالِدُ نَرْمِي ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ ، فَقَالَ : تَعَالَ أُخْبِرْكَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَقُولُ لَكَ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ لَيُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ ، وَالرَّامِيَ بِهِ ، وَمُنَبِّلَهُ " . " وَارْمُوا وَارْكَبُوا ، وَإِنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا ، وَلَيْسَ مِنَ اللَّهْوِ إِلا ثَلاثَةٌ : تَأْدِيبُ الرَّجُلِ فَرَسَهُ ، وَمُلاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ ، وَرَمْيُهُ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
خالد بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں تیراندازی میں ماہر تھا، سیدنا عقبہ جہنی رضی اللہ عنہ مجھے بلا کر کہتے: خالد! آئیں ہمارے ساتھ تیراندازی کریں، ایک دن میں لیٹ ہو گیا تو انہوں نے کہا: آئیں میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا ہوں اور جو بات آپ نے مجھ سے کہی تھی آپ کو بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے: تیر بنانے والا جو حصول ثواب کی نیت سے بناتا ہے، تیر چلانے والا، تیر انداز کو تیر پکڑانے والا۔ تیراندازی اور گھڑ سواری کریں، گھڑ سواری کی بہ نسبت تیراندازی مجھے زیادہ پسند ہے۔ تین طرح کے کھیل جائز ہیں: گھوڑے کو سکھانا اور سدھارنا، بیوی سے کھیل کود چھیڑ چھاڑ کرنا، تیر کمان کے ساتھ تیراندازی کرنا۔ جس نے تیراندازی سیکھی اور پھر اسے بے حیثیت سمجھ کر ترک کر دیا تو اس نے ایک نعمت کی ناشکری کی۔