کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: کس کی دی ہوئی امان معتبر ہے اور دستے کا لشکر کی طرف لوٹنا
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، قَالَ : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ ، قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّهُ مَا كَانَ مِنْ حِلْفٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَإِنَّ الإِسْلامَ لَمْ يَزِدْهُ إِلا شِدَّةً ، وَلا حِلْفَ فِي الإِسْلامِ ، وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَدْنَاهُمْ ، وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ ، وَتُرَدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ ، وَلا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ ، دِيَةُ الْكَافِرِ نِصْفُ دِيَةِ الْمُؤْمِنِ ، لا جَلَبَ ، وَلا جَنَبَ ، وَلا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلا فِي دُورِهِمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا: اے لوگو! زمانہ جاہلیت میں اگر کوئی (امن و امان وغیرہ کا) معاہدہ تھا تو اسلام نے اسے تقویت پہنچائی ہے، اسلام میں کوئی حلف نہیں ہے، مخالفین کے مقابلے میں مسلمان ایک دوسرے کی مدد کریں، ان میں سے ادنیٰ مسلمان بھی پناہ دے سکتا ہے، اسی طرح دور کا رہائشی بھی پناہ کو توڑ سکتا ہے اور جو فوجی دستہ بڑے لشکر سے الگ ہو کر کسی مہم پر جائے تو وہ اپنے اس بڑے لشکر کو بھی مال غنیمت میں شریک کرے، کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے، کافر کی دیت مؤمن کی دیت سے آدھی ہے، جلب ہے نہ جب بلکہ زکوٰۃ لوگوں کی جائے رہائش سے ہی لی جائے۔ (جلب کا معنی ہے کہ مصدق دفتر میں بیٹھ کر زکوٰۃ وصول کرے اور جب یہ ہے کہ زکوٰۃ دینے والے اپنے مال کو اصل مقام سے کہیں دور لے جائیں۔)
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطلاق / حدیث: 1052
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 3/180، سنن أبي داود : 4583، سنن النسائي : 8410-8411، سنن ابن ماجه : 2644، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2280) نے صحیح کہا ہے۔ محمد بن اسحاق نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، عبدالرحمن بن حارث نے مسند الامام احمد (2/215) میں اس کی متابعت کر رکھی ہے۔ یہ روایت نمبر 345 میں گزر چکی ہے۔»